سورۃ البقرہ کی تفسیر | پوسٹ نمبر 6 (حصہ نمبر 1) دوسروں کو نیکی کا حکم دینا اور خود عمل نہ کرنا – قرآن کی سخت تنبیہ
الحمد للہ رب العالمین، درود و سلام ہو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر، آپ کی آل، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور قیامت تک آپ کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام اہلِ ایمان پر۔
سورۃ البقرہ کی تفسیر کے اس مبارک سلسلے میں گزشتہ پوسٹ میں ہم نے آیت 43 کی روشنی میں نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ شامل ہونے کی اہمیت کو سمجھا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرے اور بندوں کے حقوق بھی۔ اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ایک ایسے رویے کی اصلاح فرماتے ہیں جو ہر دور میں دین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے، اور وہ ہے دوسروں کو نیکی کی تلقین کرنا مگر خود اس پر عمل نہ کرنا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"
یہ آیت اگرچہ بنی اسرائیل کے علماء سے خطاب کرتی ہے، لیکن اس کا پیغام ہر اس شخص کے لیے ہے جو دین کی دعوت دیتا ہے، لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے یا علمِ دین سے وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک بنیادی اخلاقی اصول بیان فرمایا ہے کہ انسان کی دعوت اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس کا عمل بھی اس کی بات کی تصدیق کرے۔
بنی اسرائیل کے بہت سے علماء اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، نیکی اور حق کی پیروی کا حکم دیتے تھے، لیکن جب معاملہ اپنی ذات کا آتا تو وہ انہی احکام کو نظر انداز کر دیتے۔ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں، ان کی کتابوں میں آپ ﷺ کی صفات موجود ہیں، مگر انہوں نے حسد، دنیاوی مفادات اور اپنی مذہبی حیثیت کے خوف سے حق کو قبول نہ کیا۔ اس لیے قرآن کریم نے انہیں نہایت مؤثر انداز میں متنبہ کیا کہ جو شخص دوسروں کو نیکی کی تلقین کرے اور خود اس پر عمل نہ کرے، وہ اپنی عقل اور علم دونوں سے صحیح فائدہ نہیں اٹھا رہا۔
یہ آیت ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ جب تک انسان کامل نہ ہو، وہ کسی کو نیکی کی دعوت نہ دے۔ بلکہ اس کا اصل پیغام یہ ہے کہ دعوت اور عمل دونوں ساتھ ساتھ ہونے چاہییں۔ اگر کسی شخص سے کوئی کوتاہی ہو تو اسے اپنی اصلاح بھی کرتے رہنا چاہیے اور دوسروں کو بھی بھلائی کی دعوت دیتا رہنا چاہیے۔ البتہ یہ ہرگز درست نہیں کہ انسان اپنی عملی زندگی کو نظر انداز کر دے اور صرف دوسروں کی اصلاح میں مصروف رہے۔
اسلام میں علم کا مقام بہت بلند ہے، لیکن علم کی اصل قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ عمل میں تبدیل ہو۔ جو علم انسان کے کردار، اخلاق اور معاملات میں بہتری پیدا نہ کرے، وہ اس کے لیے حجت بن جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم بار بار علم کے ساتھ عمل کی دعوت دیتا ہے۔
آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ یہ آیت ہمارے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔ ہم اکثر دوسروں کو نماز کی تلقین کرتے ہیں مگر اپنی نمازوں میں غفلت برتتے ہیں۔ ہم امانت داری، سچائی اور حسنِ اخلاق کی بات کرتے ہیں، لیکن اپنے کاروبار، ملازمت اور روزمرہ معاملات میں انہی اصولوں پر عمل کرنے میں کمزور پڑ جاتے ہیں۔ والدین بچوں کو اچھے اخلاق سکھاتے ہیں، مگر اگر وہ خود ان اخلاق کا نمونہ نہ ہوں تو نصیحت کا اثر کم ہو جاتا ہے۔
اسی طرح علماء، اساتذہ، خطباء اور دینی کارکنوں کی ذمہ داری عام لوگوں سے زیادہ ہے، کیونکہ لوگ ان کے عمل کو بھی دیکھتے ہیں۔ جب قول اور عمل ایک جیسے ہوں تو دعوت دلوں میں اترتی ہے، لیکن جب دونوں میں فرق ہو تو لوگوں کے دلوں میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
قرآن کریم کا اسلوب اصلاح پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کو مایوس نہیں کرتا بلکہ انہیں اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے بہتر انسان بننے کا راستہ دکھاتا ہے۔ اس آیت سے ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی ذات کا محاسبہ کریں، اپنے اعمال کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں، پھر اخلاص کے ساتھ دوسروں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں۔
ایک مسلمان کی حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ اس کی زبان بھی حق کی گواہی دے، اس کا کردار بھی حق کا آئینہ ہو اور اس کی پوری زندگی قرآن کریم کی تعلیمات کی عملی تصویر بن جائے۔
(حصہ نمبر 2 میں اس آیت کی مزید تفسیر، عملی اسباق، اختتامی خلاصہ، اور پھر آپ کے مقررہ فارمیٹ کے مطابق مستند قرآن و حدیث کے حوالہ جات، سوال و جواب، انٹرنل پوسٹس، بیک لنک، ڈسکلیمر، ڈسکریپشن، لیبلز اور پرمالنک شامل کیے جائیں گے۔)
سورۃ البقرہ کی تفسیر | پوسٹ نمبر 6 (حصہ نمبر 2)
دوسروں کو نیکی کا حکم دینا اور خود عمل نہ کرنا – قرآن کی سخت تنبیہ
گزشتہ حصے میں ہم نے سورۃ البقرہ کی آیت 44 کے ابتدائی مفہوم کو سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس بات پر تنبیہ فرمائی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔ یہ تنبیہ صرف بنی اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے ہر اس شخص کے لیے ہے جو دین کا علم رکھنے کے باوجود اپنے عمل کی اصلاح نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ نے آیت کے آخر میں فرمایا: "أَفَلَا تَعْقِلُونَ" یعنی "کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟" اس مختصر مگر جامع سوال میں ہر صاحبِ علم کے لیے ایک عظیم نصیحت پوشیدہ ہے۔ حقیقی عقل یہی ہے کہ انسان دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر کرے، اپنے اعمال کا جائزہ لے اور اپنے رب کے سامنے جواب دہی کو ہمیشہ یاد رکھے۔
اسلام میں دعوتِ دین کی اصل بنیاد بہترین کردار ہے۔ اگر ایک شخص خود نماز کا پابند، سچا، دیانت دار، امانت دار، صابر اور حسنِ اخلاق کا مالک ہو تو اس کی زندگی خود ایک دعوت بن جاتی ہے۔ ایسے شخص کے الفاظ دلوں میں اثر پیدا کرتے ہیں، کیونکہ اس کا عمل اس کی بات کی گواہی دیتا ہے۔ لیکن اگر زبان کچھ کہے اور کردار اس کے برعکس ہو تو لوگوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور دعوت کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اس آیت کی عملی تفسیر ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ وہی تعلیم دی جس پر خود سب سے پہلے عمل کیا۔ آپ ﷺ نے سچائی کا حکم دیا تو پوری دنیا نے آپ کو "الصادق" اور "الامین" کے لقب سے پہچانا۔ آپ ﷺ نے عدل، رحم، صبر، عفو اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دی تو آپ کی پوری زندگی ان صفات کا روشن نمونہ بن گئی۔ یہی وجہ تھی کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے کردار سے سیکھ کر اسلام کو پوری دنیا تک پہنچایا۔
یہ آیت ہر مسلمان کو روزانہ اپنا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم جن باتوں کی نصیحت دوسروں کو کرتے ہیں، ان پر خود بھی عمل کرتے ہیں؟ کیا ہمارے گھر والے، ہمارے دوست، ہمارے پڑوسی اور ہمارے ساتھی ہمارے کردار میں قرآن و سنت کی جھلک دیکھتے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہو تو ہمیں مایوس ہونے کے بجائے سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے اور اپنی اصلاح کا سفر شروع کرنا چاہیے۔
والدین کے لیے بھی اس آیت میں ایک اہم سبق ہے۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد دین سے محبت کرے، نماز کی پابند ہو، سچ بولے اور اچھے اخلاق اپنائے تو انہیں سب سے پہلے خود ان صفات کا عملی نمونہ بننا ہوگا۔ بچے نصیحت سے زیادہ اپنے والدین کے کردار سے سیکھتے ہیں۔
اسی طرح علماء، ائمہ، خطباء، اساتذہ اور داعیانِ اسلام کی ذمہ داری عام لوگوں سے زیادہ ہے، کیونکہ لوگ ان کے کردار کو دیکھ کر دین کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ اس لیے علم کے ساتھ عمل، اخلاص اور تقویٰ ہر داعی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
سورۃ البقرہ کی یہ عظیم آیت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ علم صرف یاد کرنے کا نام نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے کا نام ہے۔ جو شخص اپنے علم پر عمل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے علم میں برکت عطا فرماتا ہے، اس کے کردار کو سنوارتا ہے اور اس کی بات کو لوگوں کے دلوں میں قبولیت عطا فرماتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کو نیکی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کی اصلاح کو بھی اپنی اولین ترجیح بنائیں، تاکہ ہمارا قول اور عمل ایک دوسرے کی تصدیق کریں اور ہم اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب بندوں میں شامل ہو سکیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کی تعلیمات کو سمجھنے، ان پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے، اپنے کردار کو رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالنے اور دوسروں کے لیے بہترین عملی نمونہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مستند قرآن پاک سے حوالہ جات
📖 سورۃ: البقرہ
📚 پارہ: 1
🔹 آیات: 44
آیت:
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
ترجمہ:
"کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"
──────────────────
مستند حدیث مبارکہ سے حوالہ جات
📚 حدیث کی کتاب: صحیح البخاری
📖 باب: نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا
🔹 حدیث نمبر: 3267
📚 حدیث کی کتاب: صحیح مسلم
📖 باب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی فضیلت
🔹 حدیث نمبر: 2989
حدیث کا مفہوم:
قیامت کے دن ایک شخص کو جہنم میں لایا جائے گا جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا اور برائی سے روکتا تھا مگر خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔
──────────────────
انٹرنل پوسٹس
1. سورۃ البقرہ کی تفسیر | پوسٹ نمبر 5
2. نماز کی اہمیت قرآن و سنت کی روشنی میں
──────────────────
ویب سائٹ بیک لنک
اردو میں مزید اسلامی رہنمائی، قرآن و سنت کی روشنی میں مستند مضامین اور مکمل تفسیر پڑھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں:
https://www.themuslimwayoffiicial.com
──────────────────
کاپی رائٹ / ڈسکلیمر
© 2026 The Muslim Way Official
یہ تحریر قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد صرف اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اگر کسی جگہ علمی اصلاح کی ضرورت محسوس ہو تو مستند علماء کرام سے رجوع کریں۔
──────────────────
اسلامی سوال و جواب
سوال: کیا جو شخص خود کسی نیکی پر مکمل عمل نہ کرتا ہو، وہ دوسروں کو اس نیکی کی دعوت دے سکتا ہے؟
جواب: جی ہاں، نیکی کی دعوت دینا اور خود اس پر عمل کرنا دونوں الگ الگ ذمہ داریاں ہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیتا رہے اور اپنی اصلاح بھی مسلسل کرتا رہے۔ البتہ قرآن کریم نے قول و عمل میں تضاد سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
──────────────────

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔