نمازِ تہجد کے فضائل (قرآن و حدیث کی روشنی میں) | حصہ نمبر 1 حصہ نمبر 2

نمازِ تہجد کے فضائل پر قرآن و حدیث کی روشنی میں جامع اردو رہنمائی۔ اس پوسٹ میں تہجد کی اہمیت، روحانی فوائد، مستند قرآنی و حدیثی حوالہ جات، اسلامی سوا


 

نمازِ تہجد کے فضائل (قرآن و حدیث کی روشنی میں) | حصہ نمبر 1

نمازِ تہجد اسلام کی عظیم ترین نفلی عبادات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ مبارک نماز ہے جو رات کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ادا کی جاتی ہے۔ تہجد کا وقت وہ ہوتا ہے جب اکثر لوگ گہری نیند میں ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے اپنی نیند قربان کر کے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے ہیں، اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی کی دعائیں کرتے ہیں۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ راتوں کو کم سوتے ہیں اور سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں۔ ایک اور مقام پر رسول اللہ ﷺ کو تہجد کی خصوصی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ رات کے کچھ حصے میں تہجد ادا کریں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقامِ محمود عطا فرمائے گا۔


رسول اللہ ﷺ پوری زندگی نمازِ تہجد کا اہتمام فرماتے رہے۔ اگرچہ یہ امت پر فرض نہیں، لیکن آپ ﷺ نے اپنی امت کو اس کی ترغیب دی اور اس کے بے شمار فضائل بیان فرمائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے مبارک قدموں پر ورم آ جاتا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے تھے۔ جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

"کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟"

نمازِ تہجد بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک خاص تعلق پیدا کرتی ہے۔ رات کی خاموشی میں کی جانے والی عبادت دل کو سکون، روح کو تازگی اور ایمان کو مضبوطی عطا کرتی ہے۔ اس وقت انسان پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، کیونکہ اس وقت ریاکاری کے امکانات کم اور اخلاص زیادہ ہوتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں آیا ہے کہ رات کے آخری تہائی حصے میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر اپنی شان کے مطابق نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے:

"کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تاکہ میں اسے بخش دوں؟"

یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا اعلان ہے۔ جو بندہ اس وقت اٹھ کر نماز ادا کرتا ہے، قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے اور اپنے رب سے دعا کرتا ہے، وہ عظیم سعادت حاصل کرتا ہے۔

نمازِ تہجد انسان کے دل کو نرم کرتی ہے، گناہوں سے بچنے کی توفیق دیتی ہے، رزق میں برکت کا ذریعہ بنتی ہے، مشکلات میں آسانی پیدا کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور سلفِ صالحین نمازِ تہجد کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائے رکھتے تھے۔

آج کے دور میں اگرچہ مصروفیات بہت زیادہ ہیں، لیکن اگر مسلمان روزانہ نہیں تو ہفتے میں چند راتیں بھی تہجد کا اہتمام کرے تو اس کی روحانی زندگی میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نمازِ تہجد کی پابندی کرنے، اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے اور راتوں کو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

نمازِ تہجد کے فضائل (قرآن و حدیث کی روشنی میں) | حصہ نمبر 2

گزشتہ حصے میں ہم نے نمازِ تہجد کی اہمیت، اس کے فضائل اور رسول اللہ ﷺ کی تہجد کی پابندی کا ذکر کیا۔ اب ہم اس عظیم عبادت کے مزید روحانی فوائد، قبولیتِ دعا اور عملی رہنمائی پر گفتگو کرتے ہیں۔

نمازِ تہجد اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب بندوں کی عبادت ہے۔ جو شخص رات کی نیند چھوڑ کر صرف اپنے رب کی رضا کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرماتا ہے، اس کے دل کو نور سے بھر دیتا ہے اور اس کی دعاؤں کو قبولیت عطا فرماتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور سلفِ صالحین نمازِ تہجد کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔

رات کا آخری حصہ دعا، استغفار اور توبہ کا بہترین وقت ہے۔ اس وقت بندہ پوری عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریاں بیان کرتا ہے، اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی کی دعا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو کبھی محروم نہیں فرماتا۔

نمازِ تہجد انسان کے دل سے غفلت کو دور کرتی ہے، شیطان کے وسوسوں کو کمزور کرتی ہے اور ایمان کو مضبوط بناتی ہے۔ جو شخص تہجد کا عادی بن جاتا ہے، اس کے اندر صبر، شکر، تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ پر توکل کی صفات نمایاں ہو جاتی ہیں۔ یہی صفات ایک کامیاب مسلمان کی پہچان ہیں۔

اگر کوئی شخص ہر رات تہجد ادا نہ کر سکے تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ وہ ہفتے میں چند راتیں، یا اپنی استطاعت کے مطابق تہجد کا اہتمام کرے۔ اللہ تعالیٰ بندے کے اخلاص، نیت اور کوشش کو دیکھتا ہے۔ تھوڑی عبادت بھی اگر پابندی کے ساتھ ہو تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت محبوب ہوتی ہے۔

نمازِ تہجد کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت، درودِ پاک، استغفار اور دل سے کی جانے والی دعائیں انسان کی روحانی زندگی میں نئی تازگی پیدا کرتی ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب بندہ دنیا کے شور سے دور صرف اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔

آج کے دور میں ذہنی دباؤ، پریشانیاں اور بے سکونی عام ہو چکی ہیں۔ نمازِ تہجد ایک ایسی عظیم عبادت ہے جو دل کو سکون، روح کو اطمینان اور زندگی کو برکت عطا کرتی ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے دروازے پر رات کی تنہائی میں حاضر ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے خیر کے دروازے کھول دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نمازِ تہجد کی محبت عطا فرمائے، راتوں کو اپنے ذکر، تلاوت، دعا اور استغفار سے آباد کرنے کی توفیق دے، ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے، ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے اور ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب فرمائے۔ آمین۔

مستند قرآن پاک سے حوالہ جات

سورۃ: الإسراء

پارہ: 15

آیت نمبر: 79

سورۃ: الذاریات

پارہ: 26 و 27

آیات نمبر: 17–18

مستند حدیث مبارکہ سے حوالہ جات

حدیث کی کتاب: صحیح البخاری

باب: نمازِ تہجد کی فضیلت

حدیث نمبر: 1131

حدیث کی کتاب: صحیح مسلم

باب: رات کے آخری حصے میں دعا اور ذکر کی فضیلت

حدیث نمبر: 758

انٹرنل پوسٹس

1. نماز کی اہمیت اور فضائل (قرآن و حدیث کی روشنی میں)

2. وضو کا مکمل سنت طریقہ

3. 💤 نیند کی دعا | سونے سے پہلے کی مسنون دعائیں، اذکار اور سنت طریقہ

ویب سائٹ بیک لنک

اردو میں مزید مستند اسلامی مضامین، قرآن کریم کی تفسیر اور صحیح احادیث کی روشنی میں رہنمائی کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں:

https://www.themuslimwayoffiicial.com

کاپی رائٹ / ڈسکلیمر

© 2026 The Muslim Way Offiicial


یہ مضمون قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد مستند اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ کسی بھی فقہی مسئلے میں اپنے علاقے کے مستند علماء کرام سے رجوع کریں۔

اسلامی سوال و جواب

سوال: نمازِ تہجد پڑھنے کا بہترین وقت کون سا ہے؟

جواب: نمازِ تہجد کا بہترین وقت رات کا آخری تہائی حصہ ہے، کیونکہ اسی وقت اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور بندوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔ تاہم عشاء کی نماز کے بعد کچھ دیر سو کر فجر سے پہلے ادا کی جانے والی نماز بھی تہجد شمار ہوتی ہے۔