سورۃ البقرہ کی تفسیر | پوسٹ نمبر 4 (حصہ نمبر 1) بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا اور عہد پورا کرنے کی تلقین

سورۃ البقرہ کی تفسیر کی اس قسط میں آیات 41 تا 42 کی روشنی میں اہلِ کتاب کو قرآنِ مجید پر ایمان لانے، اللہ تعالیٰ کی آیات کو دنیاوی مفاد کے بدلے فروخت



الحمد للہ، سورۃ البقرہ کی تفسیر کے اس سلسلے میں ہم اب اس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو براہِ راست مخاطب فرماتے ہیں۔ گزشتہ پوسٹس میں سورۃ البقرہ کے ابتدائی مضامین، قرآن کریم کی عظمت، متقین، کفار اور منافقین کا ذکر بیان ہوا۔ اب اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان پر کیے گئے بے شمار احسانات یاد دلاتے ہیں تاکہ وہ حق کو پہچانیں، اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کریں اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر ایمان لے آئیں۔


اللہ تعالیٰ کا یہ اندازِ خطاب نہایت حکمت سے بھرپور ہے۔ کسی قوم کو نصیحت کرنے سے پہلے اس پر کیے گئے احسانات یاد دلانا اصلاح کا بہترین طریقہ ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرتا ہے تو اس کے دل میں شکر، عاجزی اور اطاعت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار نعمتوں کو یاد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔


اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمتیں یاد کرو جو میں نے تم پر کیں۔ ان نعمتوں میں فرعون کے ظلم سے نجات، سمندر کا راستہ بنانا، من و سلویٰ کا نزول، بادلوں کا سایہ، انبیائے کرام کی بعثت، آسمانی کتابیں عطا کرنا اور دنیا کی دوسری اقوام پر فضیلت دینا شامل ہے۔


یہ آیات اگرچہ بنی اسرائیل کے بارے میں نازل ہوئیں، لیکن ان کا پیغام صرف ایک قوم تک محدود نہیں۔ ہر مسلمان کو بھی سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان، قرآن، رسول اللہ ﷺ کی محبت، صحت، رزق، اہل و عیال اور بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ اگر انسان ان نعمتوں کی قدر نہ کرے، اللہ کی نافرمانی کرے اور اس کے احکام کو نظر انداز کرے تو وہ بھی ناشکری کا مرتکب ہو سکتا ہے۔


اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے احکام پر عمل کریں گے، انبیائے کرام کی اطاعت کریں گے اور جب آخری نبی حضرت محمد ﷺ تشریف لائیں گے تو ان پر ایمان لائیں گے۔ لیکن ان میں سے بہت سے لوگوں نے اپنے اس عہد کو توڑ دیا۔ یہی وجہ تھی کہ قرآن کریم نے انہیں بار بار ان کی غلطیوں کی یاد دہانی کرائی۔


اس مقام پر امتِ مسلمہ کے لیے بھی ایک بہت بڑی نصیحت ہے۔ ہم نے بھی کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں گے، اس کے رسول ﷺ کی سنت پر چلیں گے، نماز قائم کریں گے، حلال و حرام کا خیال رکھیں گے اور دین کو اپنی زندگی پر مقدم رکھیں گے۔ اگر ہم اس عہد کو بھول جائیں تو ہمیں بھی اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔


اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ "میرے عہد کو پورا کرو، میں تمہارے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کروں گا۔" اس میں اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم اصول بیان ہوا ہے کہ بندہ اللہ کی اطاعت اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اپنی رحمت، مدد، برکت اور کامیابی کے وعدے پورے فرماتا ہے۔


یہ وعدہ صرف بنی اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو ایمان، تقویٰ اور اطاعت کا راستہ اختیار کرے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے جنت، مغفرت اور اپنی رضا کا وعدہ فرمایا ہے، لیکن یہ وعدے ان لوگوں کے لیے ہیں جو اپنے ایمان کے تقاضے پورے کریں۔


اس آیت میں ایک اور نہایت اہم حکم یہ بھی دیا گیا کہ "صرف مجھ ہی سے ڈرو۔" ایک مسلمان کا دل اللہ تعالیٰ کی عظمت سے بھرا ہونا چاہیے۔ جب انسان اللہ سے ڈرتا ہے تو وہ لوگوں کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ پھر وہ حق بات کہنے سے نہیں گھبراتا، حرام سے بچتا ہے، ظلم سے دور رہتا ہے اور ہر معاملے میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے۔


یہی تقویٰ انسان کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے اور یہی انبیائے کرام کی دعوت کا بنیادی مقصد تھا۔ دنیا کا خوف وقتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا خوف انسان کو ہمیشہ کی کامیابی عطا کرتا ہے۔

ٹائٹل


سورۃ البقرہ کی تفسیر | پوسٹ نمبر 4 (حصہ نمبر 2)

بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا اور عہد پورا کرنے کی تلقین


پوسٹ


گزشتہ حصے میں ہم نے یہ جانا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی بے شمار نعمتیں یاد دلائیں اور انہیں اپنے ساتھ کیے ہوئے عہد کی یاد دہانی کرائی۔ اب انہی آیات کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ انہیں ایک نہایت اہم ذمہ داری کی طرف متوجہ فرماتے ہیں، اور وہ ذمہ داری حق کو قبول کرنا، اس پر عمل کرنا اور اسے بلا کم و کاست دوسروں تک پہنچانا ہے۔


اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قرآن پر ایمان لاؤ جو تمہاری موجودہ آسمانی کتابوں کی اصل تعلیمات کی تصدیق کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کوئی نیا دین لے کر نہیں آیا بلکہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی ایک ہی دعوت کی تکمیل ہے، یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت، اس کی اطاعت اور اس کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا۔


اہلِ کتاب کے علماء رسول اللہ ﷺ کی صفات سے اچھی طرح واقف تھے۔ تورات اور دیگر آسمانی صحائف میں آخری نبی کی آمد کی نشانیاں موجود تھیں۔ اسی لیے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو بہت سے علماء نے آپ ﷺ کو پہچان لیا، لیکن ان میں سے اکثر نے اپنے منصب، قیادت، حسد اور دنیاوی مفادات کی وجہ سے ایمان قبول نہ کیا۔ قرآن کریم نے اسی رویے کو سختی سے تنبیہ فرمائی۔


اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہ لو۔ اس مختصر جملے میں ایک بہت بڑا اصول بیان کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دین خرید و فروخت کی چیز نہیں۔ کوئی بھی شخص اگر مال، شہرت، اقتدار، منصب یا لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دین میں تبدیلی کرے، اللہ کے احکام کو چھپائے یا حق کو باطل کے ساتھ ملا دے تو وہ بہت بڑی ذمہ داری کا مرتکب ہوتا ہے۔


آج بھی یہ آیات ہمارے لیے اتنی ہی اہم ہیں جتنی نزولِ قرآن کے وقت تھیں۔ ایک مسلمان کی پہچان یہ ہونی چاہیے کہ وہ سچائی کو ہر حال میں اختیار کرے۔ اگر سچ بولنے سے دنیاوی نقصان بھی ہو تو اللہ تعالیٰ کی رضا کو دنیا کے فائدے پر مقدم رکھنا ایمان کی علامت ہے۔


اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جانتے بوجھتے حق کو نہ چھپاؤ۔ یہ حکم صرف علماء کے لیے نہیں بلکہ ہر اس مسلمان کے لیے ہے جسے دین کا علم حاصل ہو۔ والدین اپنے بچوں کو، اساتذہ اپنے شاگردوں کو، خطباء اپنے سامعین کو اور ہر صاحبِ علم اپنی استطاعت کے مطابق دین کی صحیح تعلیم پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔


حق کو چھپانے کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ کبھی انسان جانتے ہوئے خاموش رہتا ہے، کبھی اپنی خواہش کے مطابق دین کی غلط تشریح کرتا ہے، کبھی لوگوں کی ناراضی کے خوف سے حق بیان نہیں کرتا اور کبھی دنیاوی مفاد کے لیے باطل کی حمایت کرنے لگتا ہے۔ قرآن کریم ان تمام رویوں سے روکتا ہے اور انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل جواب دہی اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوگی۔


ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ علم کے ساتھ عمل ضروری ہے۔ صرف معلومات حاصل کر لینا کافی نہیں بلکہ ان پر عمل کرنا بھی لازم ہے۔ اگر انسان علم رکھتا ہو مگر اس کے مطابق زندگی نہ گزارے تو وہ اپنے اوپر حجت قائم کر لیتا ہے۔


ایک مومن کی شان یہ ہے کہ جب اس کے سامنے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم آ جائے تو وہ اپنی خواہش، رسم و رواج یا لوگوں کی رائے کو اس پر ترجیح نہیں دیتا۔ یہی حقیقی ایمان ہے اور یہی وہ عہد ہے جو ہر مسلمان اپنے رب کے ساتھ کرتا ہے۔


ہمیں چاہیے کہ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کریں، اس کا ترجمہ اور تفسیر سمجھیں، اپنی زندگی کا محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ کہیں ہم بھی اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت کی ناشکری، کسی حکم میں غفلت یا حق کو نظر انداز کرنے کے مرتکب تو نہیں ہو رہے۔ اگر ایسی کوئی کمی ہو تو فوراً توبہ کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی توبہ قبول فرمانے والا اور بے حد مہربان ہے۔


یہ آیات ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد رکھنا، اس کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرنا، قرآن کریم پر کامل ایمان لانا، حق کو قبول کرنا، اسے بلا خوف و خطر بیان کرنا اور ہر حال میں تقویٰ اختیار کرنا ہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔ جو شخص اس راستے کو اختیار کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، برکت اور رضا کا مستحق بنتا ہے، اور یہی ایک کامیاب مسلمان کی پہچان ہے۔

مستند قرآن پاک کے حوالہ جات


سورۃ: البقرہ

آیات: 41 تا 42

پارہ: 1 (الم)


آیت 41


وَآمِنُوا بِمَا أَنزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ


ترجمہ:

"اور اس (قرآن) پر ایمان لاؤ جو میں نے نازل کیا ہے، جو تمہارے پاس موجود (اصل) کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے، اور سب سے پہلے اس کا انکار کرنے والے نہ بنو، اور میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہ لو، اور صرف مجھ ہی سے ڈرو۔"


آیت 42


وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ


ترجمہ:

"اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، اور نہ ہی جانتے بوجھتے حق کو چھپاؤ۔"

مستند حدیث مبارکہ کے حوالہ جات

حدیث نمبر 1

حدیث کی کتاب: صحیح البخاری

باب: کتاب العلم، باب إثم من كذب على النبي ﷺ

حدیث نمبر: 107

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"

مناسبت: یہ حدیث حق کو چھپانے، دین میں تحریف کرنے اور جھوٹی بات کو دین کی طرف منسوب کرنے کی شدید ممانعت پر دلالت کرتی ہے۔

حدیث نمبر 2

حدیث کی کتاب: جامع الترمذی

باب: أبواب العلم، باب ما جاء في كتمان العلم

حدیث نمبر: 2649

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جس شخص سے علم کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپا لے، قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔"

مناسبت: یہ حدیث آیت "وَلَا تَكْتُمُوا الْحَقَّ" کی عملی تشریح کرتی ہے کہ حق اور علم کو جان بوجھ کر چھپانا بہت بڑا گناہ ہے

انٹرنل پوسٹس )

1. سورۃ الفاتحہ کی مکمل تفسیر (حصہ 1)

2. سورۃ البقرہ کی تفسیر | پوسٹ نمبر 2

. سورۃ البقرہ کی تفسیر | پوسٹ نمبر 3 حصہ نمبر  -1 2

ویب سائٹ بیک لنک

مزید مستند اسلامی مضامین، قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی اور مکمل تفاسیر پڑھنے کے لیے وزٹ کریں:

https://www.themuslimwayoffiicial.com

کاپی رائٹ / ڈسکلیم

یہ مضمون قرآنِ مجید، صحیح احادیث اور معتبر تفاسیر (تفسیر ابن کثیر، تفسیر طبری، تفسیر قرطبی اور تفسیر السعدی) کے خلاصے کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد قرآن کریم کا آسان فہم پیغام عام کرنا ہے۔ کسی شرعی فتویٰ یا عملی مسئلے میں مستند علماء کرام سے رجوع کر