غیبت کیا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں غیبت سے بچنے کا مکمل طریقہ
غیبت کیا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں غیبت کی حقیقت، اس کی قباحت، غیبت اور بہتان میں فرق، غیبت سے بچنے کے عملی طریقے اور زبان کی حفاظت کے لیے مکمل اسلا
اسلام نے انسان کی زبان کو بہت بڑی نعمت قرار دیا ہے، لیکن یہی زبان انسان کے لیے نیکی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور گناہ کا سبب بھی۔ انسان اپنے الفاظ کے ذریعے کسی کی دل آزاری کر سکتا ہے، کسی کی عزت متاثر کر سکتا ہے اور ایسے گناہ میں مبتلا ہو سکتا ہے جسے عام طور پر لوگ معمولی سمجھ لیتے ہیں۔
ایسے گناہوں میں سے ایک اہم گناہ غیبت ہے۔
غیبت کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کی جائے جو اگر اسے معلوم ہو تو اسے ناپسند ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں غیبت کی واضح تعریف بیان فرمائی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ غیبت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کا اس انداز میں ذکر کرنا جو اسے ناپسند ہو۔ جب پوچھا گیا کہ اگر وہ بات واقعی اس شخص میں موجود ہو تو؟ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اگر وہ بات اس میں موجود ہے تو یہ غیبت ہے، اور اگر موجود نہیں تو یہ بہتان ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، باب تحریم الغیبة، حدیث 2589)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہنا کہ "میں نے تو سچی بات کی ہے" غیبت کو جائز نہیں بنا دیتا۔ اگر بات سچی ہے لیکن متعلقہ شخص اسے ناپسند کرتا ہے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کا ذکر کیا گیا ہے تو یہ غیبت ہو سکتی ہے۔
قرآن مجید میں غیبت کی سخت ممانعت
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات میں مسلمانوں کو غیبت سے واضح طور پر منع فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے ناپسند کرو گے۔"
(سورۃ الحجرات، 49:12)
یہ مثال انتہائی سخت اور دل کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔ قرآن مجید غیبت کو صرف ایک معمولی اخلاقی خرابی کے طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ ایسی مثال پیش کرتا ہے جو انسان کو اس گناہ کی قباحت کا احساس دلاتی ہے۔
اسی آیت میں اللہ تعالیٰ بدگمانی اور تجسس سے بھی روکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے میں فساد پیدا کرنے والے کئی گناہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں: بدگمانی، لوگوں کے عیوب تلاش کرنا، تجسس کرنا اور پھر ان عیوب کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا۔
غیبت اور بہتان میں کیا فرق ہے؟
غیبت اور بہتان کو ایک سمجھنا درست نہیں۔
اگر کسی شخص میں واقعی کوئی عیب موجود ہے اور اس کی غیر موجودگی میں اس عیب کا ذکر ایسے انداز میں کیا جائے جو اسے ناپسند ہو، تو یہ غیبت ہے۔
لیکن اگر کسی شخص کے بارے میں ایسی بات کہی جائے جو حقیقت میں اس کے اندر موجود ہی نہیں تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ بہتان ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے صحیح مسلم کی حدیث میں اسی فرق کو واضح فرمایا ہے۔
لہٰذا کسی کے بارے میں یہ کہنا کہ "میں نے تو جھوٹ نہیں بولا، بات تو سچی تھی" غیبت کے مسئلے کو ختم نہیں کرتا۔ سچی بات بھی اگر کسی مسلمان کی غیر موجودگی میں اس کی ناپسندیدہ بات کے طور پر بیان کی جائے تو غیبت کے دائرے میں آ سکتی ہے۔
کن باتوں سے غیبت ہو سکتی ہے؟
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ غیبت صرف کسی کے بڑے عیب بیان کرنے کا نام ہے، حالانکہ معاملہ اس سے وسیع ہے۔
مثلاً کسی شخص کے بارے میں اس کے قد، شکل، لباس، خاندان، مالی حالت، کام، عادت، لہجے یا کسی ایسی کمزوری کا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو، غیبت کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
اسی طرح کسی کے بارے میں طنزیہ انداز میں بات کرنا، اس کی نقل اتارنا یا اشاروں سے اس کے عیب کی طرف توجہ دلانا بھی خطرناک ہے۔
اصل معیار یہ ہے کہ:
کیا یہ بات متعلقہ شخص کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں کہی جا رہی ہے اور اگر اسے معلوم ہو تو وہ اسے ناپسند کرے گا؟
اگر جواب ہاں ہے تو انسان کو رک جانا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر غیبت سے کیسے بچیں؟
آج غیبت کا مسئلہ صرف مجلس، گھر یا دوستوں کی محفل تک محدود نہیں رہا۔
سوشل میڈیا پر کسی شخص کے بارے میں پوسٹ لکھنا، اس کی ذاتی زندگی پر تبصرہ کرنا، اس کے عیب دوسروں کے سامنے بیان کرنا، اس کے بارے میں مذاق بنانا یا کسی کی عزت متاثر کرنے والی بات آگے شیئر کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔
اسی طرح کسی کی تصویر یا ویڈیو کے نیچے ایسا تبصرہ کرنا جو اس شخص کو تکلیف دے، زبان کے گناہ کی ایک شکل بن سکتا ہے۔
اس لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے بھی مسلمان کو وہی اصول اپنانا چاہیے جو عام گفتگو میں ہے:
جو بات سامنے بیٹھ کر کہنا پسند نہیں کرتے، اسے کسی کی غیر موجودگی میں بھی نہ کہیں۔
کسی پوسٹ کو شیئر کرنے سے پہلے بھی سوچیں کہ اس میں کسی مسلمان کی عزت، پردہ یا ذاتی زندگی متاثر تو نہیں ہو رہی۔
غیبت سے بچنے کے 7 عملی طریقے
1۔ بولنے سے پہلے سوچیں
ہر بات فوراً کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چند سیکنڈ رک کر سوچیں کہ یہ بات فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔
اگر بات کی ضرورت نہیں تو خاموشی بہتر ہے۔
2۔ غیبت والی مجلس سے خود کو دور کریں
اگر کسی مجلس میں کسی شخص کی غیبت شروع ہو جائے تو موضوع تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔
اگر موضوع تبدیل کرنا ممکن نہ ہو تو خاموش رہیں اور مناسب موقع پر وہاں سے اٹھ جائیں۔
3۔ دوسروں کے عیوب تلاش نہ کریں
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات 49:12 میں تجسس سے بھی منع فرمایا ہے۔
جو شخص ہر وقت دوسروں کے عیوب تلاش کرتا رہتا ہے، وہ بہت آسانی سے غیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
4۔ اپنی اصلاح پر توجہ دیں
دوسروں کے عیوب گننے کے بجائے اپنے اعمال کا جائزہ لینا زیادہ فائدہ مند ہے۔
اپنے آپ سے پوچھیں:
میں اپنی نماز کیسا پڑھ رہا ہوں؟
میرے اخلاق کیسے ہیں؟
میں اپنے والدین، شریکِ حیات، بچوں اور پڑوسیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہوں؟
یہ سوال انسان کو دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے سے اپنی اصلاح کی طرف لے جاتے ہیں۔
5۔ غصے میں کسی کا ذکر نہ کریں
اکثر غیبت غصے کے وقت شروع ہوتی ہے۔ انسان کسی سے ناراض ہوتا ہے اور پھر دوسرے لوگوں کے سامنے اس کی خامیاں بیان کرنا شروع کر دیتا ہے۔
غصے کے وقت خاموش رہنا زبان کو بہت سے گناہوں سے بچا سکتا ہے۔
6۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے پہلے دوبارہ پڑھیں
کسی شخص کے بارے میں پوسٹ یا کمنٹ کرنے سے پہلے خود سے پوچھیں:
کیا یہ ضروری ہے؟
کیا یہ انصاف ہے؟
کیا اس میں کسی کی عزت مجروح ہو رہی ہے؟
اگر جواب واضح نہ ہو تو پوسٹ نہ کرنا زیادہ محفوظ ہے۔
7۔ اگر غیبت ہو جائے تو فوراً توبہ کریں
انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی سے غیبت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرنی چاہیے، گناہ چھوڑنے کا عزم کرنا چاہیے اور آئندہ احتیاط کرنی چاہیے۔
ساتھ ہی کسی کی عزت کو مزید نقصان پہنچانے سے بچنا بھی ضروری ہے۔
ایسے معاملے میں شرعی تفصیلات مختلف حالات کے مطابق ہو سکتی ہیں، اس لیے اگر معاملہ سنگین ہو تو کسی معتبر عالمِ دین سے مخصوص صورتِ حال کے مطابق رہنمائی لینا بہتر ہے۔
کیا غیبت کرنے والا اچھا مسلمان ہو سکتا ہے؟
مسلمان سے گناہ ہو سکتا ہے، لیکن ایک مسلمان کا فرض یہ ہے کہ وہ گناہ پر اصرار نہ کرے بلکہ توبہ اور اصلاح کی طرف واپس آئے۔
غیبت سے بچنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی غلطی نہیں کرے گا، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی زبان کی نگرانی کرے، غلطی ہونے پر اسے پہچانے اور اصلاح کی کوشش کرے۔
اللہ تعالیٰ سورۃ الحجرات کی اسی آیت کے آخر میں اپنی رحمت کا ذکر فرماتے ہیں:
"اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔"
(سورۃ الحجرات، 49:12)
یہ ہمیں امید بھی دیتا ہے اور اصلاح کی دعوت بھی۔
زبان کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟
زبان چھوٹی ہے لیکن اس کے اثرات بہت بڑے ہیں۔
ایک لفظ کسی کے دل کو خوش کر سکتا ہے اور ایک لفظ کسی کے دل کو توڑ سکتا ہے۔ ایک جملہ رشتے مضبوط کر سکتا ہے اور ایک جملہ سالوں کے تعلقات خراب کر سکتا ہے۔
اس لیے مسلمان کو اپنی زبان کے بارے میں سنجیدہ ہونا چاہیے۔
بات کرنے سے پہلے سوچیں:
کیا یہ سچ ہے؟
کیا یہ ضروری ہے؟
کیا یہ فائدہ مند ہے؟
کیا اس سے کسی مسلمان کی عزت متاثر تو نہیں ہوگی؟
اگر بات ضروری نہ ہو تو خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے۔
اسلامی سوال و جواب
سوال: اگر میں کسی کے عیب کی سچی بات بیان کروں تو کیا یہ غیبت ہے؟
جواب: اگر وہ شخص موجود نہیں اور آپ اس کی ایسی بات بیان کر رہے ہیں جسے وہ ناپسند کرے گا، تو حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق یہ غیبت ہو سکتی ہے، خواہ بات حقیقت میں موجود ہی کیوں نہ ہو۔
سوال: اگر بات جھوٹی ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب: کسی کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اس میں موجود ہی نہ ہو، بہتان ہے اور یہ غیبت سے بھی زیادہ سنگین معاملہ ہے۔
سوال: کیا غیبت صرف زبان سے ہوتی ہے؟
جواب: غیبت کا اصل تعلق کسی کے عیب کو اس کی غیر موجودگی میں بیان کرنے سے ہے۔ آج کے دور میں تحریر، کمنٹ، پیغام یا سوشل میڈیا کے ذریعے بھی کسی کی ناپسندیدہ بات پھیلانا اسی اخلاقی مسئلے میں داخل ہو سکتا ہے۔
سوال: غیبت سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ کیا ہے؟
جواب: اپنی زبان کو قابو میں رکھنا، دوسروں کے عیوب تلاش نہ کرنا، غیبت والی مجلس سے دور رہنا اور بولنے سے پہلے سوچنا بہترین عملی احتیاط ہے۔
══════════════════════════════════════════ 📚 مستند قرآن و حدیث حوالہ جات ══════════════════════════════════════════
📖 قرآن کریم:
• سورۃ الحجرات — جز 26 — آیت 12
• موضوع: بدگمانی، تجسس اور غیبت کی ممانعت
📜 حدیث:
• کتاب: صحیح مسلم
• کتاب: البر والصلة والآداب
• باب: تحریم الغیبة
• حدیث نمبر: 2589
• راوی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
صحیح مسلم 2589 میں رسول اللہ ﷺ نے غیبت کی واضح تعریف بیان فرمائی اور یہ بھی واضح کیا کہ اگر بیان کی جانے والی بات حقیقت میں موجود ہو تو غیبت ہے، اور اگر موجود نہ ہو تو بہتان ہے۔
══════════════════════════════════════════ 🔗 مزید اسلامی مطالعہ کے لیے 3 متعلقہ موضوعات ══════════════════════════════════════════
══════════════════════════════════════════ 🌐 Website Backlink ══════════════════════════════════════════
اردو میں مزید مستند اسلامی رہنمائی، قرآن و حدیث کی روشنی میں مضامین اور روزانہ نئی پوسٹس کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں:
The Muslim Way Offiicial
══════════════════════════════════════════ © Copyright © 2026 The Muslim Way Offiicial — All Rights Reserved. اس مضمون کو اجازت کے بغیر مکمل طور پر نقل، دوبارہ شائع یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ ══════════════════════════════════════════ 📢 Call To Action (CTA) اگر یہ مضمون آپ کے لیے مفید ثابت ہوا ہو تو اسے اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں۔ مزید مستند اسلامی رہنمائی، قرآن و حدیث کی روشنی میں مضامین اور روزانہ نئی پوسٹس کے لیے ہماری ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں:
https://www.themuslimwayoffiicial.com ══════════════════════════════════════════ 📅 آخری اپڈیٹ 15 اگست 2026

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔