سیرتِ رسول ﷺ – باب 10: قریش کی مخالفت اور ابتدائی مظالم
جب رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت علانیہ طور پر پیش کی تو قریش کو اپنے اقتدار، رسم و رواج اور معاشی مفادات خطرے میں نظر آنے لگے۔ اسی خوف نے انہیں شدید مخالفت اور ظلم پر آمادہ کر دیا۔
🔹 مخالفت کی وجوہات
قریش کی مخالفت کے چند بڑے اسباب یہ تھے:
بت پرستی کے نظام کو خطرہ
قبائلی سرداری کے ختم ہونے کا اندیشہ
خانۂ کعبہ سے وابستہ معاشی مفادات
مساوات اور توحید کا پیغام
یہ سب باتیں قریش کے لیے ناقابلِ قبول تھیں۔
🔹 کمزور مسلمانوں پر مظالم
قریش نے خاص طور پر ان مسلمانوں کو نشانہ بنایا جو کمزور تھے:
غلام
عورتیں
بے سہارا افراد
انہیں سخت اذیتیں دی گئیں تاکہ وہ اسلام چھوڑ دیں۔
🔹 حضرت بلالؓ کی استقامت
حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کو تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھے جاتے اور کہا جاتا کہ اسلام چھوڑ دو، مگر ان کی زبان پر صرف ایک ہی لفظ ہوتا:
اَحَد، اَحَد
یہ استقامت ایمان کی عظیم مثال ہے۔
🔹 حضرت سمیہؓ کی شہادت
حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا، جو اسلام کی پہلی شہیدہ ہیں، نے شدید اذیتوں کے باوجود ایمان نہیں چھوڑا اور حق کی راہ میں اپنی جان قربان کر دی۔ ان کی شہادت نے اسلام کی تاریخ میں صبر و قربانی کا نیا باب رقم کیا۔
🔹 رسول اللہ ﷺ کا صبر
ان مظالم کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے:
بددعا نہیں دی
تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا
صبر، حکمت اور دعوت کا سلسلہ جاری رکھا
یہی اخلاقی برتری اسلام کی اصل طاقت بنی۔
🔹 ابتدائی مظالم کا اثر
قریش کے مظالم نے:
مسلمانوں کے ایمان کو مزید مضبوط کیا
حق و باطل کی لکیر واضح کر دی
اسلام کی سچائی کو مزید نمایاں کر دیا
یہ آزمائشیں دراصل مستقبل کی عظیم کامیابیوں کی تمہید تھیں۔
