سیرتِ رسول ﷺ – باب 11: حبشہ کی طرف ہجرت
مکہ مکرمہ میں قریش کے مظالم جب حد سے بڑھ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ایک ایسے خطے کی طرف ہجرت کی اجازت دی جہاں عدل و انصاف کا نظام قائم تھا۔ یہ ہجرت اسلام کی تاریخ میں ایک نہایت اہم اور حکمت بھرا قدم ثابت ہوئی۔
🔹 ہجرت کی اجازت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حبشہ میں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے یہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔ اس فرمان کی بنیاد پر کچھ مسلمانوں نے حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا۔
🔹 پہلی ہجرت
یہ اسلام کی پہلی ہجرت تھی۔ اس قافلے میں مردوں اور عورتوں سمیت کئی صحابہؓ شامل تھے۔ اس ہجرت کا مقصد:
جان و ایمان کی حفاظت
ظلم سے نجات
آزادی کے ساتھ دین پر عمل
تھا۔
🔹 قریش کا تعاقب
قریش نے مسلمانوں کی واپسی کے لیے اپنے نمائندے حبشہ بھیجے تاکہ بادشاہ کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جائے۔ انہوں نے تحائف پیش کیے اور مسلمانوں پر مختلف الزامات لگائے۔
🔹 حضرت جعفرؓ کی تاریخی تقریر
نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اسلام کا تعارف کروایا اور فرمایا کہ:
ہم جاہلیت میں مبتلا قوم تھے
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سچائی، امانت اور پاکیزگی کی تعلیم دی
پھر انہوں نے سورۂ مریم کی آیات تلاوت کیں، جنہیں سن کر نجاشی اور اس کے درباری متاثر ہو گئے۔
🔹 نجاشیؒ کا عادلانہ فیصلہ
نجاشیؒ نے مسلمانوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا اور قریش کے نمائندوں کو ناکام واپس لوٹا دیا۔ اس فیصلے نے ثابت کر دیا کہ عدل مذہب، نسل یا قوم کا محتاج نہیں ہوتا۔
🔹 ہجرت کے نتائج
حبشہ کی ہجرت سے:
مسلمانوں کو سکون اور تحفظ ملا
اسلام کا پیغام غیر عرب دنیا تک پہنچا
صبر اور حکمت کی عملی مثال قائم ہوئی
یہ ہجرت اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام ظلم کے مقابلے میں امن اور انصاف کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
