سیرتِ رسول ﷺ – باب 12: قریش کی سازشیں اور رسول اللہ ﷺ کو پیش کی جانے والی پیشکشیں
جب قریش نے دیکھا کہ ظلم، تشدد اور دباؤ کے باوجود اسلام کی دعوت رکنے کے بجائے پھیلتی جا رہی ہے تو انہوں نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی۔ اب انہوں نے لالچ، مفاہمت اور سازش کا راستہ اختیار کیا تاکہ رسول اللہ ﷺ کو دعوتِ حق سے باز رکھا جا سکے۔
🔹 قریش کی بدلتی حکمتِ عملی
ابتدا میں قریش نے:
مذاق اُڑایا
الزامات لگائے
مظالم ڈھائے
مگر جب یہ سب ناکام ہوا تو انہوں نے سوچا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح راضی کر لیا جائے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
🔹 دنیاوی پیشکشیں
قریش کے سرداروں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کئی بڑی پیشکشیں رکھیں:
بے پناہ مال و دولت
مکہ کی سرداری اور اقتدار
سب سے خوبصورت عورتوں سے شادی
بیماری کی صورت میں علاج
ان سب کا مقصد صرف ایک تھا:
اسلام کی دعوت کو ختم کرنا۔
🔹 رسول اللہ ﷺ کا دوٹوک جواب
رسول اللہ ﷺ نے ان تمام پیشکشوں کے جواب میں فرمایا:
اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیں، تب بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑوں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے غالب کر دے یا میں اس راہ میں جان دے دوں۔
یہ جواب حق پر استقامت کی تاریخ ساز مثال ہے۔
🔹 قرآن کے ذریعے مقابلہ
قریش نے یہ بھی کوشش کی کہ:
قرآن کو جادو کہا جائے
لوگوں کو قرآن سننے سے روکا جائے
مختلف کہانیاں گھڑی جائیں
مگر قرآن کا اثر دلوں پر قائم رہا اور اسلام کی روشنی بجھائی نہ جا سکی۔
🔹 قریش کی سازشوں کی ناکامی
ان تمام تدبیروں کے باوجود:
اسلام پھیلتا گیا
ایمان مضبوط ہوتا گیا
رسول اللہ ﷺ ثابت قدم رہے
یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ حق کو نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ دبایا جا سکتا ہے۔
🔹 اس باب سے ملنے والا سبق
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:
حق کا راستہ آزمائشوں سے بھرا ہوتا ہے
دنیاوی لالچ حق کو نہیں بدل سکتی
اللہ پر یقین رکھنے والا کبھی ناکام نہیں ہوتا
