سیرتِ رسول ﷺ – باب 14: ہجرتِ مدینہ کے اسباب اور تیاری
مکہ مکرمہ میں دعوتِ اسلام کے ابتدائی تیرہ برس شدید آزمائشوں سے بھرپور تھے۔ قریش کی مسلسل مخالفت، مظالم اور سازشوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک نئی سرزمین کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔ یہ ہجرت نہ صرف جان و ایمان کی حفاظت کے لیے تھی بلکہ اسلام کے عملی نظام کے قیام کا نقطۂ آغاز بھی بنی۔
🔹 ہجرت کے اسباب
ہجرتِ مدینہ کے چند بنیادی اسباب یہ تھے:
قریش کی جانب سے ظلم و تشدد میں اضافہ
دعوتِ اسلام کے راستے مسدود کرنے کی کوششیں
شعبِ ابی طالب کے محاصرے کے اثرات
مکہ میں آزادانہ عبادت کا ناممکن ہونا
یہ حالات اس بات کا تقاضا کر رہے تھے کہ اسلام کو ایک محفوظ مرکز فراہم کیا جائے۔
🔹 مدینہ کی طرف امید
مدینہ (یثرِب) کے کچھ افراد حج کے موقع پر رسول اللہ ﷺ سے ملے اور اسلام قبول کیا۔ بعد ازاں بیعتِ عقبہ اولیٰ اور ثانیہ کے ذریعے انہوں نے:
اسلام کی حفاظت کا وعدہ کیا
رسول اللہ ﷺ کو مدینہ آنے کی دعوت دی
جان و مال سے مدد کی یقین دہانی کرائی
یہ بیعتیں ہجرت کی بنیاد بنیں۔
🔹 اللہ کا حکم اور حکمت
ہجرت کسی کمزوری یا فرار کا نام نہیں تھی، بلکہ یہ اللہ کے حکم کے مطابق ایک منظم اور حکیمانہ اقدام تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے:
مناسب وقت کا انتخاب کیا
راز داری اختیار کی
ہر پہلو سے مکمل تیاری کی
یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ توکل کے ساتھ تدبیر بھی ضروری ہے۔
🔹 ہجرت کی تیاری
رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کی تیاری میں:
قابلِ اعتماد ساتھی کا انتخاب کیا
راستے اور قیام کا منصوبہ بنایا
دشمنوں کی سازشوں سے بچنے کے لیے حکمت اپنائی
یہ تیاری بعد میں آنے والے عظیم سفر کی تمہید تھی۔
🔹 ہجرت کی اہمیت
ہجرتِ مدینہ:
اسلامی تاریخ کا نیا باب ہے
اسلامی ریاست کی بنیاد ہے
قربانی، صبر اور توکل کی اعلیٰ مثال ہے
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب اللہ پر بھروسا ہو اور حکمت اختیار کی جائے تو مشکلات راستہ نہیں روک سکتیں۔
