سیرتِ رسول ﷺ – باب 15: ہجرت کا سفر اور غارِ ثور


 اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب ہجرتِ مدینہ کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ نے نہایت حکمت اور تدبر کے ساتھ اس عظیم سفر کا آغاز فرمایا۔ یہ سفر بظاہر خطرات سے بھرا ہوا تھا، مگر اللہ کی حفاظت ہر قدم پر ساتھ تھی۔

🔹 رات کی روانگی

قریش رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش ناکام بنا دی۔ رسول اللہ ﷺ رات کے وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے۔ آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر سلا دیا تاکہ امانتیں واپس کی جا سکیں۔

🔹 غارِ ثور میں قیام

مدینہ کی طرف سیدھا جانے کے بجائے رسول اللہ ﷺ جنوب کی سمت گئے اور غارِ ثور میں تین دن قیام فرمایا۔ یہ ایک انتہائی حکمت بھرا فیصلہ تھا تاکہ دشمنوں کو دھوکہ دیا جا سکے۔

🔹 کفار کی تلاش

قریش کے لوگ رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں ہر جگہ پہنچ گئے، حتیٰ کہ غارِ ثور کے دہانے تک بھی آ گئے۔ اس موقع پر حضرت ابو بکرؓ کو فکر ہوئی، مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا

(غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے)

🔹 اللہ کی مدد

اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے غار کے دہانے پر:

مکڑی کا جالا

کبوتروں کے گھونسلے

قائم کر دیے، جنہیں دیکھ کر کفار واپس لوٹ گئے۔ یہ واقعہ اللہ کی نصرت اور حفاظت کی عظیم مثال ہے۔

🔹 سفر کا دوبارہ آغاز

تین دن بعد رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ نے مدینہ کی طرف سفر دوبارہ شروع کیا۔ یہ سفر صرف جغرافیائی تبدیلی نہیں تھا بلکہ:

ایک نئے دور کا آغاز

اسلامی ریاست کی بنیاد

ایمان کی فتح

تھا۔

🔹 اس واقعے سے ملنے والا سبق

غارِ ثور کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:

سچا توکل خوف کو ختم کر دیتا ہے

اللہ کی مدد نظر نہ آنے کے باوجود قریب ہوتی ہے

حکمت اور توکل ایک ساتھ چلتے ہیں

یہی وجہ ہے کہ ہجرت کا یہ سفر ایمان والوں کے لیے قیامت تک مثال بن گیا۔

Popular posts from this blog

Namaz Waqt Par Parhne Ki Ahmiyat Aur Fawaid (Islamic Rehnumai)

Jaldi Aur Behtar Rishta Milne Ka Qurani Wazifa (Shadi Ke Liye)

Islamabad Namaz Timing – Aaj ke Namaz ke Auqat