سیرتِ رسول ﷺ – باب 16: مدینہ میں آمد اور انصار کا تاریخی استقبال
کہجرتِ مدینہ کا طویل اور پُرخطر سفر مکمل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے۔ یہ دن اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور روشن دن تھا، کیونکہ اب اسلام کو ایک محفوظ مرکز میسر آ چکا تھا جہاں وہ معاشرتی اور عملی شکل اختیار کرنے والا تھا۔
🔹 اہلِ مدینہ کی بے تابی
مدینہ کے لوگ روزانہ شہر سے باہر آ کر رسول اللہ ﷺ کی آمد کا انتظار کرتے۔ جونہی خبر پھیلی کہ آپ ﷺ تشریف لا رہے ہیں، پورا شہر خوشی سے گونج اٹھا۔ مرد، عورتیں اور بچے سب استقبال کے لیے امڈ آئے۔
🔹 تاریخی استقبال
انصار نے رسول اللہ ﷺ کا استقبال ان الفاظ کے ساتھ کیا:
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا
یہ اشعار ان کی خوشی، محبت اور عقیدت کا اظہار تھے۔ یہ استقبال محض ایک مسافر کا نہیں بلکہ ہدایت کے رہبر کا تھا۔
🔹 مسجدِ قباء کی بنیاد
مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ قباء میں قیام فرمایا، جہاں:
اسلام کی پہلی مسجد (مسجدِ قباء) کی بنیاد رکھی
جماعت اور نماز کی عملی تربیت شروع ہوئی
یہ مسجد تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہونے والی پہلی مسجد قرار پائی۔
🔹 سواری کا فیصلہ
جب مدینہ میں داخل ہوئے تو ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اس کے یہاں قیام فرمائیں، مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
اسے چھوڑ دو، یہ اللہ کے حکم سے جہاں بیٹھے گی، وہی قیام گاہ ہوگی۔
بالآخر اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب بیٹھی، جہاں رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا۔
🔹 نئے دور کا آغاز
مدینہ میں آمد کے ساتھ:
اسلامی معاشرے کی تشکیل شروع ہوئی
مہاجرین و انصار کے درمیان اخوت قائم ہوئی
عبادت، اخلاق اور عدل کا عملی نظام وجود میں آیا
یہ مرحلہ اسلام کے پھیلاؤ میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔
🔹 اس باب سے ملنے والا سبق
مدینہ کی آمد ہمیں سکھاتی ہے کہ:
اخوت اور قربانی مضبوط معاشرہ بناتی ہے
نیت خالص ہو تو اللہ راستے کھول دیتا ہے
قیادت اخلاق اور عمل سے قائم ہوتی ہے
