سیرتِ رسول ﷺ – باب 17: مسجدِ نبوی ﷺ کی تعمیر


 مدینہ منورہ میں قیام کے بعد رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلا اور اہم کام مسجدِ نبوی ﷺ کی تعمیر کا آغاز فرمایا۔ یہ مسجد صرف عبادت گاہ نہیں تھی بلکہ اسلامی معاشرے کا مرکز، تربیت گاہ اور مشاورت کی جگہ بھی تھی۔

🔹 مسجد کی جگہ کا انتخاب
رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی جس مقام پر بیٹھی تھی، وہ جگہ دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ زمین قیمت ادا کر کے خریدی اور اسی مقام پر مسجدِ نبوی ﷺ کی بنیاد رکھی۔ یہ عمل انصاف اور حق تلفی سے اجتناب کی عملی مثال تھا۔
🔹 تعمیر میں رسول اللہ ﷺ کی شرکت
مسجد کی تعمیر کے دوران:
رسول اللہ ﷺ خود اینٹیں اور پتھر اٹھاتے
صحابہؓ کے ساتھ مل کر کام کرتے
کسی قسم کی امتیازی حیثیت اختیار نہ فرماتے
یہ طرزِ عمل قیادت کی اعلیٰ مثال ہے کہ رہنما خود محنت میں شریک ہو۔
🔹 سادگی پر مبنی تعمیر
ابتدائی مسجد:
کچی اینٹوں اور کھجور کے تنوں سے بنی
چھت کھجور کی شاخوں سے تیار کی گئی
فرش سادہ مٹی کا تھا
یہ سادگی اس بات کی علامت تھی کہ اسلام میں اصل اہمیت تقویٰ کی ہے، نہ کہ ظاہری شان و شوکت کی۔
🔹 مسجد کا جامع کردار
مسجدِ نبوی ﷺ:
عبادت کی جگہ
تعلیم و تربیت کا مرکز
مہاجرین کی رہائش (صفہ)
اجتماعی مشاورت اور فیصلوں کا مقام
تھی۔ یوں یہ مسجد ایک مکمل اسلامی معاشرے کا مرکز بنی۔
🔹 مسجدِ نبوی ﷺ کی اہمیت
اس مسجد کی تعمیر نے:
مسلمانوں کو ایک مرکز فراہم کیا
اخوت اور اجتماعیت کو فروغ دیا
دین کو عملی زندگی سے جوڑا
یہ مسجد اسلام کے سماجی، تعلیمی اور روحانی نظام کی بنیاد ثابت ہوئی۔
🔹 اس باب سے حاصل ہونے والا سبق
مسجدِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتی ہے کہ:
قیادت خدمت سے جنم لیتی ہے
عبادت اور معاشرت الگ نہیں
سادگی اور اخلاص دین کی اصل روح ہیں

Popular posts from this blog

Namaz Waqt Par Parhne Ki Ahmiyat Aur Fawaid (Islamic Rehnumai)

Jaldi Aur Behtar Rishta Milne Ka Qurani Wazifa (Shadi Ke Liye)

Islamabad Namaz Timing – Aaj ke Namaz ke Auqat