سیرتِ رسول ﷺ – باب 18: مواخات — مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ
مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے کی تعمیر کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ایک انقلابی قدم اٹھایا جسے مواخات کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد مہاجرین اور انصار کے درمیان ایسا مضبوط رشتہ قائم کرنا تھا جو نسل، قبیلہ اور مال و دولت سے بالاتر ہو۔🔹 مواخات کی ضرورت
مہاجرین مکہ سے:
اپنا گھر
مال و اسباب
کاروبار
چھوڑ کر آئے تھے۔ مدینہ میں نئے ماحول میں ان کے لیے معاشی اور سماجی سہارا ناگزیر تھا۔ اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے مواخات کا نظام قائم فرمایا۔
🔹 بھائی چارے کا اعلان
رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کو جوڑ جوڑ کر دینی بھائی قرار دیا۔ اس رشتے کی بنیاد:
ایمان
اخلاص
اللہ کی رضا
تھی، نہ کہ دنیاوی مفاد۔
🔹 ایثار و قربانی کی مثالیں
انصار نے مہاجرین کے ساتھ:
اپنے گھر بانٹے
مال میں شریک کیا
کاروبار میں سہارا دیا
یہ ایثار انسانی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ انصار کا جذبہ قرآنِ کریم میں بھی سراہا گیا ہے۔
🔹 اسلامی معاشرت کی بنیاد
مواخات کے نظام نے:
طبقاتی فرق ختم کیا
باہمی اعتماد کو فروغ دیا
ایک مضبوط اور متحد امت تشکیل دی
یہی اتحاد بعد میں اسلام کی فتوحات کا سبب بنا۔
🔹 مواخات کا پیغام آج کے لیے
یہ نظام ہمیں سکھاتا ہے کہ:
ایمان رشتوں کی سب سے مضبوط بنیاد ہے
اخوت صرف لفظ نہیں، عملی قربانی چاہتی ہے
معاشرہ تب مضبوط ہوتا ہے جب کمزور کا سہارا لیا جائے
🔹 مواخات کی دائمی اہمیت
مواخات صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ہمیشہ زندہ اصول ہے، جو ہر دور کے مسلمانوں کو اتحاد، ایثار اور بھائی چارے کی دعوت دیتا ہے۔