سیرتِ رسول ﷺ – باب 19: میثاقِ مدینہ اور اسلامی ریاست کی بنیاد
مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے کے قیام کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ایک تاریخی دستاویز مرتب فرمائی جسے میثاقِ مدینہ کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ دنیا کا پہلا تحریری آئین سمجھا جاتا ہے، جس نے ایک منظم ریاست کی بنیاد رکھی۔
🔹 میثاقِ مدینہ کی ضرورت
مدینہ میں مختلف طبقات آباد تھے:
مہاجرین
انصار
یہودی قبائل
ایک منصفانہ اور پرامن معاشرے کے لیے ایک واضح ضابطۂ حیات ناگزیر تھا۔ اسی ضرورت کے تحت میثاقِ مدینہ وجود میں آیا۔
🔹 معاہدے کی بنیادی شقیں
میثاقِ مدینہ کے تحت:
تمام شہریوں کو مذہبی آزادی دی گئی
جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا گیا
ظلم اور ناانصافی کی ممانعت کی گئی
اجتماعی دفاع کی ذمہ داری سب پر عائد کی گئی
یہ اصول عدل و مساوات کی اعلیٰ مثال تھے۔
🔹 رسول اللہ ﷺ کی قیادت
میثاقِ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کو:
اعلیٰ ترین حاکم
تنازعات کے منصف
اجتماعی فیصلوں کا مرکز
قرار دیا گیا۔ یہ قیادت جبر پر نہیں بلکہ اعتماد اور انصاف پر مبنی تھی۔
🔹 غیر مسلموں کے حقوق
یہودی قبائل کو:
اپنے دین پر عمل کی آزادی
معاشرتی تحفظ
قانونی حقوق
دیے گئے، بشرطیکہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ کریں۔ یہ مذہبی رواداری کی روشن مثال ہے۔
🔹 اسلامی ریاست کی بنیاد
میثاقِ مدینہ نے:
قبائلی نظام کو ریاستی نظام میں بدلا
قانون کی بالادستی قائم کی
باہمی اتحاد کو مضبوط کیا
یہی اصول بعد میں اسلامی خلافت کی بنیاد بنے۔
🔹 آج کے لیے پیغام
میثاقِ مدینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:
عدل کے بغیر ریاست قائم نہیں رہ سکتی
مختلف عقائد کے لوگ امن سے رہ سکتے ہیں
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے
