سیرتِ رسول ﷺ – باب 20: غزوات کا آغاز اور دفاعی حکمتِ عملی
میثاقِ مدینہ کے بعد اسلامی ریاست کو بیرونی اور اندرونی خطرات کا سامنا تھا۔ قریشِ مکہ مسلسل اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے اور مدینہ پر حملے کا خطرہ بڑھتا جا رہا تھا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو دفاع کی اجازت عطا کی گئی، جس کے نتیجے میں غزوات کا آغاز ہوا۔
🔹 جنگ کی اجازت کا پس منظر
ابتدا میں مسلمانوں کو صبر اور برداشت کا حکم تھا، مگر جب:
ظلم حد سے بڑھ گیا
جان و مال کو خطرہ لاحق ہوا
مذہبی آزادی سلب ہونے لگی
تو اللہ تعالیٰ نے دفاع کی اجازت دی۔ یہ اجازت جارحیت کے لیے نہیں بلکہ ظلم کے خاتمے کے لیے تھی۔
🔹 غزوات کا مقصد
اسلام میں جنگ کا مقصد:
ظلم کا مقابلہ
مذہبی آزادی کا تحفظ
امن و انصاف کا قیام
ہے، نہ کہ طاقت کا مظاہرہ یا مال و غنیمت کا حصول۔
🔹 دفاعی حکمتِ عملی
رسول اللہ ﷺ نے غزوات میں:
مشاورت کو اہمیت دی
مناسب حکمتِ عملی اختیار کی
غیر جنگجوؤں کو نقصان سے بچایا
یہ سب اسلامی جنگی اخلاقیات کی بنیاد بنے۔
🔹 غزوۂ بدر کا پس منظر
غزوات میں سب سے پہلا بڑا معرکہ غزوۂ بدر تھا، جس میں:
مسلمان تعداد اور وسائل میں کم تھے
مگر ایمان اور نظم و ضبط میں مضبوط
یہ معرکہ اللہ کی نصرت اور حق کی فتح کی عظیم مثال بنا۔
🔹 اخلاقی اصول
غزوات کے دوران:
دھوکہ دہی سے منع کیا گیا
قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا گیا
امن کی پیشکش کو قبول کیا گیا
یہ اصول بتاتے ہیں کہ اسلام جنگ میں بھی اخلاق سے دستبردار نہیں ہوتا۔
🔹 اس باب سے حاصل ہونے والے اسباق
غزوات کا آغاز ہمیں سکھاتا ہے کہ:
دفاع ایک حق ہے
جنگ آخری حل ہے
اخلاق اور عدل ہر حال میں لازم ہیں
یہ اصول آج کے دور میں بھی امن کے قیام کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
