سیرتِ رسول ﷺ – باب 5: نوجوانی، صداقت اور امانت
📖 سیرتِ رسول ﷺ – باب 5
نوجوانی، صداقت اور امانت
🟢 تمہید
رسولِ اکرم ﷺ کی نوجوانی پاکیزگی، سچائی اور اعلیٰ اخلاق کا عملی نمونہ تھی۔
نبوت سے پہلے ہی آپ ﷺ اپنے کردار کی وجہ سے پورے مکہ میں ممتاز ہو چکے تھے، اور لوگ آپ ﷺ کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
🟣 نوجوانی کا دور
نبی کریم ﷺ نے اپنی نوجوانی سادگی اور محنت کے ساتھ گزاری۔
آپ ﷺ نے:
تجارت میں حصہ لیا
لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا
کبھی جھوٹ، فریب یا بددیانتی اختیار نہیں کی
اسی لیے لوگ بغیر کسی تردد کے آپ ﷺ پر اعتماد کرتے تھے۔
🟣 صداقت (سچائی)
سچ بولنا نبی کریم ﷺ کی پہچان بن چکا تھا۔
آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، نہ ہی کسی کو دھوکہ دیا۔
اسی صداقت کی وجہ سے:
دشمن بھی آپ ﷺ کی سچائی کے معترف تھے
مشکل فیصلوں میں لوگ آپ ﷺ کی طرف رجوع کرتے تھے
یہی سچائی بعد میں دعوتِ اسلام کی بنیاد بنی۔
🟣 امانت داری
نبی کریم ﷺ کی امانت داری ضرب المثل تھی۔
لوگ اپنی قیمتی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھواتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ:
“محمد ﷺ کبھی خیانت نہیں کرتے”
یہاں تک کہ نبوت کے بعد بھی:
مخالفین نے اپنی امانتیں آپ ﷺ ہی کے پاس چھوڑ رکھی تھیں
یہ اخلاقی عظمت کی بلند ترین مثال ہے۔
🟣 لقب: الصادق الامین
آپ ﷺ کے بے مثال کردار کی وجہ سے اہلِ مکہ نے آپ ﷺ کو دو عظیم القاب دیے:
الصادق (سچ بولنے والے)
الامین (امانت دار)
یہ القاب کسی دعوے سے نہیں، بلکہ عملی زندگی سے ملے تھے۔
🟣 سبق اور پیغام
یہ باب ہمیں سکھاتا ہے کہ:
کردار دعوت سے پہلے آتا ہے
سچائی اور امانت اعتماد کی بنیاد ہیں
اللہ تعالیٰ سچے اور امانت دار بندوں کو عزت عطا فرماتا ہے
🔚 خلاصہ
نبی کریم ﷺ کی نوجوانی اس بات کا ثبوت ہے کہ عظیم انسان بننے کے لیے دولت یا طاقت نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق ضروری ہیں۔
یہ سیرتِ رسول ﷺ کی سلسلہ وار تحریر ہے۔
اگلا باب (باب 6) ان شاء اللہ جلد شائع کیا جائے گا۔
آپ ﷺ کا کردار ہی بعد میں اسلام کی سب سے مضبوط دلیل بنا۔
