سیرتِ رسول ﷺ – باب 6: نبوت سے قبل مکہ کا معاشرہ اور حالات
🔹 مکہ کا مذہبی ماحول
مکہ میں خانۂ کعبہ موجود تھا، جو اصل میں توحید کا مرکز تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس میں بت پرستی عام ہو چکی تھی۔ ہر قبیلے نے اپنے اپنے بت رکھے ہوئے تھے اور لوگ انہیں اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اس شرک نے انسانوں کو اخلاقی طور پر کمزور کر دیا تھا۔
🔹 معاشرتی حالات
اس زمانے میں:
ظلم اور ناانصافی عام تھی
طاقتور کمزوروں کو دباتے تھے
غلاموں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا
عورت کو حقیر سمجھا جاتا تھ
بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینا ایک عام رسم تھی، جو اس معاشرے کی سنگ دلی اور جہالت کو ظاہر کرتی ہے۔
🔹 اخلاقی بگاڑ
شراب نوشی، جوا، فحاشی اور بدکاری عام تھی۔ سچائی اور دیانت جیسی صفات ناپید ہوتی جا رہی تھیں۔ اس ماحول میں اخلاقی اقدار تقریباً ختم ہو چکی تھیں۔
🔹 قبائلی نظام
عرب معاشرہ قبائل پر مشتمل تھا۔ ہر قبیلہ اپنی عزت اور طاقت کے لیے لڑتا رہتا تھا۔ معمولی بات پر برسوں تک جنگیں چلتی رہتیں۔ انصاف قبیلے کی بنیاد پر ہوتا، حق اور سچ کی بنیاد پر نہیں۔
🔹 ایسے ماحول میں رسول اللہ ﷺ
اسی تاریک ماحول میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو پیدا فرمایا، جنہوں نے بعثت سے پہلے ہی:
سچائی
امانت
اعلیٰ اخلاق
کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اپنی پہچان بنا لی۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ آپ ﷺ کو الصادق اور الامین کہتے تھے۔
یہی بگڑا ہوا معاشرہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ انسانیت کو ایک عظیم رہنما اور الٰہی پیغام کی شدید ضرورت تھی، جو بعد میں نبوتِ محمدی ﷺ کی صورت میں پوری ہوئی
