شرک کیا ہے؟ شرک کی اقسام اور اسلام میں اس کا انجام
شرک کیا ہے؟
شرک اس گناہ کو کہتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرایا جائے، چاہے وہ عبادت میں ہو، دعا میں ہو یا عقیدے میں۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں فرماتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔”
(سورۃ النساء: 48)
شرک کی اقسام
1️⃣ شرکِ اکبر (بڑا شرک)
وہ شرک جو انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔
مثالیں:
اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا
غیر اللہ سے دعا مانگنا
کسی کو نفع و نقصان کا مالک سمجھنا
👉 یہ شرک ناقابلِ معافی ہے اگر توبہ نہ کی جائے۔
2️⃣ شرکِ اصغر (چھوٹا شرک)
وہ شرک جو ایمان کو کمزور کرتا ہے مگر اسلام سے خارج نہیں کرتا۔
مثالیں:
دکھاوے کے لیے عبادت کرنا (ریا)
عبادت میں لوگوں کی تعریف کی نیت رکھنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مجھے تم پر سب سے زیادہ شرکِ اصغر کا خوف ہے، اور وہ ریا ہے۔”
(مسند احمد)
3️⃣ شرکِ خفی (چھپا ہوا شرک)
وہ شرک جو دل میں ہوتا ہے اور انسان کو خود بھی محسوس نہیں ہوتا۔
مثال:
اللہ پر بھروسہ کرنے کے بجائے اسباب پر مکمل اعتماد کرنا
کیا ہر احترام شرک ہے؟
نہیں، ہر احترام شرک نہیں ہوتا۔
مثالیں جو شرک نہیں:
والدین کا احترام
علماء کی عزت
انبیاء و اولیاء سے محبت
👉 عبادت اور عقیدہ صرف اللہ کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔
شرک سے بچنے کا طریقہ
توحید کا علم حاصل کریں
دعا صرف اللہ سے مانگیں
نیت کو خالص رکھیں
قرآن و سنت کو معیار بنائیں
نتیجہ
شرک سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑا گناہ ہے۔ اسلام کی بنیاد توحید ہے، اور کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ہر قسم کے شرک سے بچیں اور صرف اللہ پر کامل یقین رکھیں۔
دعا
اے اللہ! ہمیں ہر قسم کے شرک سے محفوظ فرما اور ہمیں خالص توحید پر قائم رکھ۔ آمین 🤲
