سیرتِ رسول ﷺ – باب 1: بعثت سے پہلے عرب کا حال | Islamic History
رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت سے قبل عرب معاشرہ سخت گمراہی میں ڈوبا ہوا تھا۔
شرک، جہالت، ظلم اور اخلاقی پستی عام تھی۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے ماحول میں آخری نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا تاکہ انسانیت کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لایا جائے۔
1️⃣ عرب کا مذہبی حال
بعثت سے پہلے:
کعبہ میں 360 بت رکھے گئے تھے
اللہ کو مانتے تھے مگر عبادت بتوں کی
توہمات اور جھوٹے عقائد عام تھے
شرک اس قدر عام تھا کہ حق اور باطل میں فرق مٹ چکا تھا۔
2️⃣ سماجی حالت
قبائلی نظام انتہائی سخت
طاقتور، کمزور پر ظلم کرتا
عورت کو حقیر سمجھا جاتا
بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا عام تھا
انسانی جان کی کوئی قدر نہ تھی۔
3️⃣ اخلاقی بگاڑ
شراب نوشی عام
جوا، فحاشی، بدکاری
وعدہ خلافی
امانت میں خیانت
لیکن انہی اندھیروں میں کچھ روشن کردار بھی تھے جو حق کے متلاشی تھے۔
4️⃣ اہلِ عرب کی اچھی صفات
ان تمام برائیوں کے باوجود:
مہمان نوازی
بہادری
وعدے کی پاسداری (چند لوگ)
یہی وہ بنیاد تھی جس پر اسلام نے ایک عظیم امت کھڑی کی۔
خلاصہ
یہ وہ ماحول تھا جس میں رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت ہوئی۔
اسلام نے اسی معاشرے کو عدل، رحمت اور توحید کا گہوارہ بنا دیا۔
سبق:
جب معاشرہ انتہا کی گمراہی میں ہو تو اللہ کی طرف سے ہدایت ضرور آتی ہے۔
یہ سیرتِ رسول ﷺ کی ایک سلسلہ وار تحریر ہے۔
اگلا باب (باب 2) جلد شائع کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔
