العدل – قرآن و حدیث کی روشنی میں انصاف کا اسلامی تصور
اسلام میں العدل ایک بنیادی اور مرکزی اصول ہے۔ عربی زبان میں “العدل” کا معنی ہے انصاف کرنا، توازن قائم رکھنا، حق کو اس کے اصل مقام پر رکھنا اور ظلم سے مکمل اجتناب۔ قرآنِ کریم میں عدل کو نہ صرف ایک اخلاقی قدر کے طور پر پیش کیا گیا ہے بلکہ اسے ایمان، عبادت اور معاشرتی نظام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنایا اور اس کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی دی کہ وہ عدل کو قائم کرے۔ عدل صرف عدالتوں یا حکمرانوں تک محدود نہیں بلکہ ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں انصاف کو اختیار کرے، چاہے وہ ذاتی معاملات ہوں، خاندانی تعلقات ہوں یا معاشرتی رویے۔
قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود عادل ہے اور ظلم کو پسند نہیں کرتا۔ اسی لیے اس نے اپنے بندوں کو بھی عدل کا حکم دیا۔ ایک مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے فائدے اور نقصان سے بالاتر ہو کر انصاف کا ساتھ دے۔
اسلامی تصورِ عدل کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ غیر جانبدار ہوتا ہے۔ قرآن ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی قوم، رشتہ یا دشمنی کی وجہ سے انصاف سے نہ ہٹیں۔ اگر فیصلہ اپنے خلاف بھی جاتا ہو تب بھی حق کا ساتھ دینا ہی عدل ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت عدل کی عملی تصویر ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ انصاف کو ترجیح دی، چاہے معاملہ کسی قریبی ساتھی کا ہو یا مخالف کا۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اگر ان کی اپنی بیٹی بھی چوری کرے تو اس پر بھی وہی قانون لاگو ہوگا جو کسی اور پر ہوگا۔ یہ اعلان دراصل اسلامی عدل کے معیار کو واضح کرتا ہے۔
اسلام میں عدل کا تعلق صرف دنیاوی معاملات سے نہیں بلکہ آخرت سے بھی ہے۔ قرآن بار بار یاد دلاتا ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کے اعمال کا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔ یہی یقین انسان کو دنیا میں انصاف پر قائم رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔
آج کے معاشروں میں عدل کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انصاف کو طاقت، دولت اور تعلقات کے تابع کر دیا گیا ہے۔ اسلام اس سوچ کو مکمل طور پر رد کرتا ہے۔ اسلامی عدل میں کمزور اور طاقتور برابر ہوتے ہیں، اور اصل معیار صرف حق ہوتا ہے۔
عدل کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انسان اپنے نفس کے ساتھ بھی انصاف کرے۔ یعنی وہ گناہ، زیادتی اور ناانصافی سے اپنے آپ کو بچائے۔ جو شخص خود اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے، وہ معاشرے میں بھی عدل قائم نہیں کر سکتا۔
اسلامی تاریخ میں جب بھی عدل کو ترجیح دی گئی، معاشرہ امن اور سکون کا گہوارہ بنا۔ اور جب عدل کو نظرانداز کیا گیا تو انتشار، بداعتمادی اور ظلم پھیلا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عدل محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ معاشرتی بقا کی شرط ہے۔
العدل کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان گواہی میں سچ بولے، ناپ تول میں کمی نہ کرے، فیصلوں میں جانبداری نہ دکھائے اور کمزور کا حق مضبوط کے سامنے کھل کر بیان کرے۔ یہی وہ عدل ہے جسے قرآن نے تقویٰ کے سب سے قریب قرار دیا ہے۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ عدل صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ ایک مومن ہر دن، ہر فیصلے اور ہر رویے میں خود سے یہ سوال کرتا ہے:
“کیا میں انصاف کر رہا ہوں؟”
حوالہ جات (قرآن و حدیث)
قرآنِ کریم:
“بے شک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے”
(سورۃ النحل: 90)
“اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دیتے ہوئے”
(سورۃ النساء: 135)
“کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ روکے”
(سورۃ المائدہ: 8)
حدیثِ نبوی ﷺ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“عدل کرنے والے قیامت کے دن نور کے منبروں پر ہوں گے”
(صحیح مسلم)
ڈسکلیمر
یہ تحریر صرف دینی آگاہی اور اسلامی تعلیمات کی وضاحت کے لیے ہے۔
یہ کسی فرد، ادارے یا نظام کے خلاف فتوٰی یا قانونی فیصلہ نہیں۔
عملی اور فقہی مسائل میں مستند علماء سے رجوع ضروری ہے۔
کاپی رائٹ
© 2026 | All Rights Reserved
اس تحریر کو اجازت کے بغیر نقل یا تجارتی استعمال کرنا منع ہے

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔