اذان اور اقامت کے مسائل (قرآن و حدیث کی روشنی میں) | حصہ نمبر 1 حصہ نمبر 2
اذان اسلام کے عظیم شعائر میں سے ایک ہے۔ یہ صرف نماز کا اعلان نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور نماز کی طرف دعوت کا عظیم پیغام ہے۔ جب مؤذن اذان دیتا ہے تو درحقیقت وہ لوگوں کو دنیا کے تمام کام چھوڑ کر اپنے رب کی عبادت کی طرف بلاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام نے اذان کو بہت بلند مقام عطا فرمایا ہے۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد جب مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو نماز کے وقت لوگوں کو جمع کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ کسی نے گھنٹی بجانے، کسی نے آگ جلانے اور کسی نے سینگ بجانے کا مشورہ دیا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان تجاویز کو پسند نہیں فرمایا۔ پھر حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خواب میں اذان کے الفاظ سنے اور رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سچا خواب ہے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ انہی الفاظ کے ساتھ اذان دیں، کیونکہ ان کی آواز زیادہ بلند اور مؤثر تھی۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اور جب تم نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔"
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان اسلام کی ایک نمایاں نشانی ہے جس کی عظمت اور احترام ہر مسلمان پر لازم ہے۔
اذان کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی کبریائی اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی گواہی پر مشتمل ہیں۔ اس کے بعد بندوں کو کامیابی اور نماز کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو اذان سن کر اپنے تمام غیر ضروری کام روک کر نماز کی تیاری کرنی چاہیے۔
احادیث مبارکہ میں مؤذن کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن مؤذن سب لوگوں سے زیادہ لمبی گردن والے ہوں گے، یعنی وہ عزت، شرف اور بلند مقام پائیں گے۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ جن و انس اور ہر وہ چیز جو مؤذن کی آواز سنتی ہے، قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی۔
اذان سننے والے کے لیے بھی شریعت نے آداب مقرر کیے ہیں۔ جب مؤذن اذان دے تو سننے والا بھی انہی الفاظ کو دہرائے، البتہ "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" کے جواب میں "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" کہنا سنت ہے۔ اذان مکمل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجا جائے اور پھر اذان کے بعد کی مسنون دعا پڑھی جائے، کیونکہ اس دعا کے پڑھنے والے کے لیے قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کی بشارت دی گئی ہے۔
اقامت دراصل نماز کے باقاعدہ آغاز کا اعلان ہے۔ اذان اور اقامت کے الفاظ تقریباً ایک جیسے ہیں، البتہ اقامت میں "قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ" کے الفاظ شامل کیے جاتے ہیں تاکہ نمازی صفیں درست کر کے نماز کے لیے مکمل طور پر تیار ہو جائیں۔
بعض لوگ اذان اور اقامت کے درمیان دنیاوی گفتگو، موبائل فون یا غیر ضروری مشاغل میں مشغول رہتے ہیں، جبکہ یہ وقت دعا کی قبولیت کا بھی وقت ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس وقت کو ذکر، دعا، استغفار اور نماز کی تیاری میں گزارے۔
اذان اور اقامت صرف مسجد کے لیے نہیں بلکہ یہ مسلمان کی عملی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کی یاد کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ جہاں اذان کی آواز بلند ہوتی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے، شیطان دور بھاگتا ہے اور ایمان تازہ ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اذان کا احترام کرنے، اس کا جواب سنت کے مطابق دینے، اقامت کے آداب پر عمل کرنے اور پانچوں وقت نماز باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اذان اور اقامت کے مسائل (قرآن و حدیث کی روشنی میں) | حصہ نمبر 2
پوسٹ
گزشتہ حصے میں ہم نے اذان کی اہمیت، اس کی ابتدا، فضائل اور آداب پر گفتگو کی۔ اب ہم اقامت کے مسائل، اذان و اقامت سے متعلق چند اہم شرعی احکام اور عملی رہنمائی پر روشنی ڈالتے ہیں۔
اقامت دراصل نماز کے باقاعدہ آغاز کا اعلان ہے۔ اذان مسلمانوں کو مسجد کی طرف بلاتی ہے جبکہ اقامت یہ اعلان کرتی ہے کہ اب نماز شروع ہونے والی ہے، اس لیے تمام نمازی اپنی صفیں درست کر لیں اور مکمل توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی سنت یہ تھی کہ اذان اور اقامت کے درمیان مناسب وقفہ رکھا جاتا تاکہ لوگ وضو کر کے مسجد پہنچ جائیں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء ہر نماز کی اپنی اذان اور اقامت ہے، جبکہ جمعہ کی نماز کے لیے بھی شریعت کے مطابق اذان اور اقامت ادا کی جاتی ہے۔
جب اقامت شروع ہو جائے تو غیر ضروری گفتگو، ہنسی مذاق اور دنیاوی مشاغل سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ نمازی سکون، وقار اور عاجزی کے ساتھ صف میں کھڑے ہوں، صفوں کو برابر کریں اور امام کی اقتدا کے لیے خود کو تیار کریں۔ رسول اللہ ﷺ صفیں درست کرنے پر خصوصی توجہ دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ صفوں کی درستگی نماز کی تکمیل کا حصہ ہے۔
اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنا بھی باعثِ فضیلت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی۔ اس لیے اس وقت کو قیمتی سمجھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگنی چاہییں۔
اذان دیتے وقت خوش الحانی اختیار کرنا مستحب ہے، لیکن گانے کے انداز یا لہجے میں اذان دینا درست نہیں۔ اسی طرح اذان کے الفاظ میں اپنی طرف سے اضافہ یا کمی کرنا بھی جائز نہیں، کیونکہ اذان کے الفاظ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں اور انہی کو اسی ترتیب کے ساتھ ادا کرنا سنت ہے۔
اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو اور اقامت شروع ہو چکی ہو تو اسے فوراً جماعت میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر جماعت کھڑی ہو چکی ہو تو نفل نماز شروع نہیں کرنی چاہیے بلکہ فرض نماز میں امام کے ساتھ شامل ہونا چاہیے۔
آج کے دور میں اذان کی آواز صرف نماز کی دعوت نہیں بلکہ اسلام کی پہچان بھی ہے۔ جہاں اذان بلند ہوتی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اعلان ہوتا ہے اور مسلمانوں کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے کی یاد دہانی ہوتی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اذان کا احترام کرے، اس کا جواب سنت کے مطابق دے، اقامت کے آداب پر عمل کرے اور حتیٰ الامکان نماز باجماعت ادا کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اذان اور اقامت کی عظمت کو سمجھنے، ان کے تمام مسنون آداب پر عمل کرنے، نماز باجماعت کی پابندی کرنے اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مستند قرآن پاک سے حوالہ جات
سورۃ: المائدہ
پارہ: 6
آیت نمبر: 58
سورۃ: الجمعۃ
پارہ: 28
آیت نمبر: 9
مستند حدیث مبارکہ سے حوالہ جات
حدیث کی کتاب: صحیح البخاری
باب: اذان کی فضیلت
حدیث نمبر: 614
حدیث کی کتاب: صحیح مسلم
باب: مؤذن کی فضیلت اور اذان کا جواب
حدیث نمبر: 387
انٹرنل پوسٹس
1. نماز کی اہمیت اور فضائل (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
ویب سائٹ بیک لنک
اردو میں مزید مستند اسلامی مضامین، قرآن کریم کی تفسیر اور صحیح احادیث کی روشنی میں رہنمائی کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں:
https://www.themuslimwayoffiicial.com
کاپی رائٹ / ڈسکلیمر
© 2026 The Muslim Way Offiicial
یہ مضمون قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد مستند اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ شرعی مسائل میں اپنے علاقے کے مستند علماء کرام سے بھی رہنمائی حاصل کریں۔
اسلامی سوال و جواب
سوال: اگر اقامت شروع ہو جائے اور کوئی شخص سنت یا نفل نماز پڑھ رہا ہو تو کیا کرے؟
جواب: اگر فرض نماز کی اقامت ہو جائے تو جماعت کی اہمیت کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں متعلقہ فقہی احکام کے مطابق عمل کیا جائے، اور اگر مسئلہ درپیش ہو تو اپنے مسلک کے مستند عالم سے رہنمائی لی جائے۔

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔