NASA-JAXA XRISM نے پلسار کو ستارے کی گیس جذب کرتے براہِ راست دیکھ لیا
NASA-JAXA XRISM نے پلسار کو ستارے کی گیس جذب کرتے براہِ راست دیکھ لیا
13 ہزار نوری سال دور ایک انتہائی طاقتور خلائی نظام میں گیس کے پلسار کی طرف بہاؤ کا غیر معمولی مشاہدہ
NASA اور جاپان کی خلائی ایجنسی JAXA کے مشترکہ XRISM (X-ray Imaging and Spectroscopy Mission) نے ایک انتہائی دلچسپ فلکیاتی عمل کو پہلے سے کہیں زیادہ واضح انداز میں دیکھا ہے۔ ماہرین نے پہلی بار واضح شواہد کے ساتھ مشاہدہ کیا کہ ایک دیو قامت ستارے سے نکلنے والی گیس، جسے Stellar Wind کہا جاتا ہے، اس کے قریبی ساتھی Neutron Star Pulsar کی کششِ ثقل کے باعث اس کی طرف بہہ رہی ہے۔
یہ نظام زمین سے کتنا دور ہے؟
یہ نظام BP Crucis کہلاتا ہے اور زمین سے تقریباً 13,000 نوری سال دور جنوبی آسمان کے Crux برج میں موجود ہے۔
اس نظام میں کیا موجود ہے؟
1۔ Wray 977 — ایک دیو قامت ستارہ
Wray 977 ایک Blue Hypergiant ستارہ ہے۔ NASA کے مطابق اس کی کمیت سورج سے تقریباً 40 گنا اور اس کا حجم سورج سے تقریباً 60 گنا ہے۔
2۔ GX 301-2 — ایک نیوٹران اسٹار پلسار
اس دیو قامت ستارے کا ساتھی GX 301-2 ہے، جو ایک Neutron Star اور Pulsar ہے۔ یہ تقریباً 20 کلومیٹر قطر کی ایک انتہائی کثیف جسمانی ساخت ہے جس میں سورج سے زیادہ کمیت موجود ہے۔
پلسار کیا ہوتا ہے؟
پلسار ایک تیزی سے گھومنے والا نیوٹران اسٹار ہوتا ہے جو اپنے مضبوط مقناطیسی میدان اور گردش کے باعث تابکاری کی شعاعیں خارج کر سکتا ہے۔ GX 301-2 تقریباً ہر 11 منٹ میں ایک چکر مکمل کرتا ہے اور اس کی X-ray شعاعیں زمین کی سمت بھی آتی ہیں۔
ستارے کی گیس پلسار تک کیسے پہنچتی ہے؟
Wray 977 انتہائی گرم اور روشن ستارہ ہے، اس لیے اس کی سطح سے ionized گیس مسلسل باہر نکلتی رہتی ہے۔ اس بہاؤ کو Stellar Wind کہا جاتا ہے۔
جب GX 301-2 اس گھنی گیس کے بہاؤ سے گزرتا ہے تو اس کی شدید کششِ ثقل اس گیس کے کچھ حصے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ یہی عمل Wind-fed Accretion کہلاتا ہے۔
گیس کتنی تیزی سے پلسار کی طرف جا رہی تھی؟
تقریباً 335,000 میل فی گھنٹہ
XRISM کے Resolve instrument نے X-ray spectrum میں آئرن سے متعلق absorption lines کا انتہائی تفصیلی مشاہدہ کیا۔ ان خطوط کی توانائی میں تبدیلی سے سائنس دان گیس کی سمت اور رفتار کا اندازہ لگا سکے۔
NASA کے مطابق مشاہدہ شدہ گیس تقریباً 540,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پلسار کی طرف بڑھ رہی تھی۔ 1XRISM نے یہ دریافت کیسے کی؟
XRISM ایک X-ray observatory ہے جس میں Resolve نامی اعلیٰ حساسیت والا instrument موجود ہے۔ سائنس دانوں نے BP Crucis کو 1 فروری 2025 کو تقریباً 16 گھنٹے تک observe کیا۔
Resolve نے X-ray spectrum میں مختلف عناصر، خصوصاً highly ionized iron کی absorption lines کو انتہائی تفصیل سے ریکارڈ کیا۔ ان خطوط میں ہونے والی تبدیلیوں نے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد دی کہ گیس کس سمت اور کتنی رفتار سے حرکت کر رہی ہے۔ 2
پلسار کے گرد گیس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
جب پلسار گیس کے گھنے بہاؤ میں داخل ہوتا ہے تو گیس اس کے گرد ایک Accretion Disk کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ گیس اندر کی طرف گھومتے ہوئے گرم ہوتی ہے اور X-rays خارج کرتی ہے۔
NASA کے مطابق پلسار جب گیس کے بہاؤ میں مزید اندر جاتا ہے تو یہ ڈسک ٹوٹ سکتی ہے، کیونکہ اس مرحلے پر گیس کے پاس ڈسک کو برقرار رکھنے کے لیے کافی Angular Momentum نہیں رہتا۔ اس کے بعد پلازما نسبتاً براہِ راست نیوٹران اسٹار کی طرف گرنے لگتا ہے۔ 3
X-ray شعاعوں کے طاقتور شعلے کیوں پیدا ہوتے ہیں؟
پلسار جب اپنے ساتھی ستارے سے نکلنے والی گھنی گیس کو اپنی طرف کھینچتا ہے تو یہ مادہ انتہائی گرم ہو جاتا ہے۔ اسی عمل سے طاقتور X-ray Flares پیدا ہوتے ہیں۔
BP Crucis میں پلسار اپنے 41.5 روزہ مدار کے دوران مختلف مقامات پر اس گیس کے گھنے بہاؤ سے گزرتا ہے۔ NASA کے مطابق مضبوط X-ray flares کئی دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔ 4
تقریباً چار دن کا سفر
NASA کے مطابق پلسار کو ستارے کے گھنے پلازما بہاؤ کو عبور کرنے میں تقریباً چار دن لگتے ہیں۔ اس دوران اس کے گرد بننے والی گیس کی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں اور X-ray emission میں بھی فرق دیکھا جاتا ہے۔
یہ دریافت کیوں اہم ہے؟
- سائنس دانوں کو نیوٹران اسٹار کے قریب مادے کی حرکت سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
- Stellar Wind اور Neutron Star کے درمیان تعلق کا زیادہ تفصیلی مشاہدہ ممکن ہوا۔
- X-ray flares پیدا ہونے کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
- انتہائی مضبوط کششِ ثقل اور مقناطیسی میدان کے قریب مادے کے رویے کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
آسان الفاظ میں پوری دریافت
ایک بہت بڑا اور گرم ستارہ مسلسل گیس خلا میں خارج کر رہا ہے۔ اس کے قریب موجود ایک چھوٹا مگر انتہائی کثیف نیوٹران اسٹار اس گیس کے کچھ حصے کو اپنی زبردست کششِ ثقل سے کھینچ لیتا ہے۔ یہ گیس تیزی سے گرم ہوتی ہے اور X-rays پیدا کرتی ہے۔ XRISM نے اس گیس کی حرکت کو غیر معمولی تفصیل سے ریکارڈ کیا۔
یہاں "ستارے کی گیس جذب کرنا" سے مراد نیوٹران اسٹار کی کششِ ثقل کے ذریعے ساتھی ستارے کے Stellar Wind سے مادہ کھینچنے کا عمل ہے۔ یہ زمین پر کسی معمول کے طرز پر "گیس پینے" کا عمل نہیں بلکہ انتہائی کائناتی حالات میں ہونے والا accretion process ہے۔
متعلقہ مضامین — مزید پڑھیں
معتبر اصل ماخذ
NASA Science — NASA-JAXA XRISM Mission
NASA Goddard Space Flight Center — XRISM visualization and scientific information
Science Advances — متعلقہ سائنسی تحقیق
خبر کی بنیادی معلومات NASA کی 18 ستمبر 2026 کی سرکاری رپورٹ سے تصدیق شدہ ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
XRISM ایک X-ray Imaging and Spectroscopy Mission ہے، جو NASA اور JAXA کے تعاون سے انتہائی توانائی والے کائناتی اجسام کا مطالعہ کرتی ہے۔
BP Crucis زمین سے تقریباً 13,000 نوری سال دور ہے۔
GX 301-2 ایک نیوٹران اسٹار پلسار ہے جو اپنے ساتھی ستارے Wray 977 سے نکلنے والی گیس کے کچھ حصے کو اپنی کششِ ثقل سے کھینچتا ہے۔
XRISM کے مشاہدے میں گیس تقریباً 540,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پلسار کی طرف جاتی ہوئی دکھائی دی۔
یہ مشاہدہ نیوٹران اسٹار کے قریب مادے کے بہاؤ، accretion process اور X-ray flares پیدا ہونے کے طریقہ کار کو بہتر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
مزید مستند اور دلچسپ خبریں پڑھیں
سائنس، خلائی تحقیق، ٹیکنالوجی، IT، طبی تحقیقات، اسلامی معلومات اور دنیا کی حیرت انگیز دریافتوں سے متعلق مزید مفید اور مستند معلومات کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں۔
The Muslim Way OfficialWebsite Backlink
سائنس، ٹیکنالوجی، اسلامی معلومات اور مستند رہنمائی کے لیے The Muslim Way Official وزٹ کریں۔
The Muslim Way OfficialNews Disclaimer
یہ خبر معتبر سائنسی ذرائع، NASA کی سرکاری معلومات اور دستیاب تحقیقی مواد کی بنیاد پر معلوماتی مقصد کے لیے تیار کی گئی ہے۔ سائنسی تحقیق کے نتائج، تشریحات اور تفصیلات وقت کے ساتھ مزید بہتر یا تبدیل ہو سکتی ہیں۔ یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے اور اسے حتمی سائنسی یا طبی مشورہ نہ سمجھا جائے۔
Last Updated: 20 September 2026

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔